بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || نکتے والی بات یہ ہے کہ امریکہ ایران کو ایک ناقابل تسخیر عالم طاقت کے طور پر تسلیم کرنے پر مجبور ہؤا ہے، اور اب اس کو ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے مغربی ممالک کے اپنے ساتھ ملانے کے لئے، عجیب و غریب قسم کے ہتھکنڈے اپنانا پڑ رہے ہیں۔ اور روبیو کا بیانیہ بھی ان ہی ہتکھنڈوں سے ایک ہے۔
تیسری اور آخری قسط:
روبیو کی ہرزہ سرائیوں کی وقعت کتنی ہے؟
روبیو کی بات اس لحاظ سے سنجیدہ ہے کہ یہ اس کی اور امریکی حکومت کی نیت کو ظاہر کرتی ہے، اور اس کا جواب دینا چاہئے اور اس کا مقابلہ کرنا چاہئے؛ چاہے ملک کے اندر، جہاں یہ امریکہ کی ایران سے دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے کہ وہ صرف اسلامی جمہوریہ کا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور طاقتور ایران کا دشمن ہے؛ چاہے ملک سے باہر، جہاں وہ ایرانوفوبیا کو اسلاموفوبیا کا متبادل بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔
رویبو کا نام نہاد بیانیہ اندرونی طور پر غیر مستحکم ہے اور اسے مغربی مفکرین کی برادری میں قبولیت کے لحاظ سے زیادہ سنجیدہ نہیں سمجھا جانا چاہئے۔
ٹرمپ کی حکومت مفکرین اور نظریہ ساز افراد سے خالی اور چاپلوسوں سے مالامال ہے اور اس کی حکومت کے وزراء کی اوسط شرح ذہانت بہت نچلی سطح پر ہے، اور یہ وہی سادہ لوح افراد ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ کی چند سطروں کی ناقص کتابت اور میڈیا کے ذریعے ایران مخالف بیانیہ بنا کر کام چل جائے گا۔ لہٰذا پالیسی ساز کو فکر مند ہونا چاہئے لیکن یہ بھی جاننا چاہئے کہ ایسے بیانیوں کی گہرائی پر بھی توجہ دینی چاہئے اور اگر اس امریکہ کا مخالف فریق 'طاقتور' ہو تو ایسی باتوں کو اندھادھند قبول نہیں کیا جاتا۔
البتہ جو کچھ درحقیقت اس جنگ میں اور خدا کے فضل سے ہوگا، وہ اس ہرزہ سرائی کا بہترین جواب ہے۔ امریکہ کی شکست جو بہت قریب ہے اور یقیناً واشنگٹن کے لئے بہت مہنگی ہوگی۔
نکتے والی بات یہ ہے کہ امریکہ ایران کو ایک ناقابل تسخیر عالم طاقت کے طور پر تسلیم کرنے پر مجبور ہؤا ہے، اور اب اس کو ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے مغربی ممالک کے اپنے ساتھ ملانے کے لئے، عجیب و غریب قسم کے ہتھکنڈے اپنانا پڑ رہے ہیں۔ اور روبیو کا بیانیہ بھی ان ہی ہتکھنڈوں سے ایک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تکمیل و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ